بنگلورو،25؍دسمبر(ایس او نیوز) سابق ریاستی وزیر اور سینئر کانگریس لیڈر رام لنگار یڈی نے انہیں وزارت میں شامل نہ کئے جانے پر اپنی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہر کے میئر کا انتخاب کارپوریٹروں کو کامیاب بنانے کی جدوجہد وغیرہ کے لئے ان کی ضرورت پڑتی ہے لیکن اقتدار کی تقسیم کے مرحلے میں انہیں خاطر میں نہیں لایا جاتا۔ سابق وزیراعلیٰ سدرامیا سے اپنی ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی بی ایم پی میں اقتدار کسی بھی حال میں بی جے پی کے ہاتھ نہ جائے اسے یقینی بنانے کے لئے کانگریس کو رام لنگا ریڈی کی ضرورت تھی۔ بی بی ایم پی کے ہر معاملے میں انہوں نے ذاتی دلچسپی لے کر کام کیا ہے۔ لیکن کابینہ میں توسیع کے مرحلے میں کانگریس نے انہیں صاف نظر انداز کردیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ان کے ساتھ کانگریس پارٹی نے جو سلوک کیا ہے سدرامیا خود بتائیں کہ یہ انصاف ہے یا نہ انصافی۔ سدرامیا کی رہائش گاہ کاویری میں آج ان سے ملاقات کے بعد رام لنگا ریڈی نے اخباری نمائندوں کو بتایاکہ کانگریس کے ایک دو قائدین کی وجہ سے انہیں وزارت میں موقع نہیں مل پایا ہے۔ نائب وزیراعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور کو بنگلور ضلع کا انچارج وزیر بنائے جانے پر بھی شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے رام لنگا ریڈی نے کہاکہ کانگریس پارٹی کو محنت کرنے کے لئے بنگلور میں پارٹی کے سبھی اراکین اسمبلی چاہئے، ہر رکن اسمبلی محنت کرکے کارپوریٹروں کو کامیاب کرتا ہے۔ لیکن مخلوط حکومت کے قیام کے بعد بنگلور ضلع انچارج وزیر بنانے کے لئے کانگریس قیادت کو کوئی بنگلور کا ایم ایل اے نہیں ملا ، کسی باہر والے کو لاکر بنگلور کے امور پر مسلط کردیا گیا ہے۔ رام لنگا ریڈی نے کہاکہ پرمیشور چاہیں تو ٹمکور ضلع کے انچارج وزیر بن جائیں ۔ بنگلور کے کسی وزیر کو بنگلور کی ذمہ داری سونپنی چاہئے۔ رام لنگا ریڈی نے پرمیشور کو ترقیات بنگلور کا قلمدان دئے جانے پر بھی اعتراض کیا اور کہاکہ بی بی ایم پی اور بنگلور کی دیگر بلدی ایجنسیوں کے بارے میں پرمیشور کیا جانتے ہیں؟۔ یہ ذمہ داری شہر کے ان اراکین اسمبلی کو دی جانی چاہئے جو شہر کے ہر گلی کوچے کی خاک چھان کر منتخب ہوتے ہیں۔ رام لنگاریڈی نے کہاکہ پچھلی سدرامیا حکومت میں انہوں نے محکمۂ داخلہ کو بہ حسن خوبی نبھایا ہے، لیکن کمار سوامی کابینہ کی تشکیل کے مرحلے میں انہیں کیوں خاطر میں نہیں لایا گیا وہ اب تک سمجھ نہیں پارہے ہیں۔ رام لنگا ریڈی نے کہاکہ جس دن سے وہ کانگریس سے جڑے ہیں آج تک بحیثیت کارپوریٹر ، رکن اسمبلی اور وزیر پارٹی سے مسلسل وفاداری کرتے رہے ہیں، آج تک ان پر کوئی ایسا الزام نہیں لگایا ہے جس پارٹی مخالف مخالف سرگرمی قرار دیا جائے۔ اس کے باوجود بھی کابینہ کی تشکیل کے مرحلے میں انہیں خاطر میں نہ لایا جانا افسوسناک ہے۔